نادیہ سحر ۔۔۔ مرے ٹوٹے ہوئے دل کو دُکھانا مت کہا تھا نا

مرے ٹوٹے ہوئے دل کو دُکھانا مت کہا تھا نا
اِن آنکھوں میں کبھی آنسو سجانا مت کہا تھا نا

میں تنہا تھی میں تنہا ہوں مجھے معلوم ہے لیکن
کبھی یہ بات تم مجھ کو بتانا مت کہا تھا نا

مرے ہوتو مرے رہنا پرائے تم نہ ہوجانا
تعلق تم زمانے سے نبھانا مت کہا تھا نا

سمجھنے میں مجھے شاید غلط فہمی ہوئی تم کو
مجھے احساس یہ ہرگز دلانا مت کہا تھا نا

نہ ہو تعبیر جب ممکن تو سچائی بتا دینا
کوئی بھی خواب اب مجھ کو دِکھانا مت کہا تھا نا

بہت مشکل سے آیا ہے سنورنا سجنا اور ہنسنا
مرے اندر چراغوں کو بجھانا مت کہا تھا نا

ہو چاہے جس قدر لمبی شبِ ہجراں نہ گھبرانا
سحر ہوں میں ، میں آئوں گی بھلانا مت کہا تھا نا

Related posts

Leave a Comment